میں سوچتا ہوں مگر خواب تک نہیں جاتا
ابھی میں قریۂ مہتاب تک نہیں جاتا
میں جانتا ہوں مرا ہم مزاج ہے دریا
کسی بھی حال میں سیلاب تک نہیں جاتا
وگرنہ وہ تو مجھے چھوڑ کر چلے جاتے
مرا جنوں مرے احباب تک نہیں جاتا
سفید پوشی میں اپنا بھرم رکھے ہوئے ہوں
کبھی میں ریشم و کمخواب تک نہیں جاتا
سُخن وری بھی تو اقبال رایگاں ٹھہری
یہ راستہ بھی تو اسباب تک نہیں جاتا
